(طالب علم نے صبح کے وقت نماز پڑھی)
أَضْحَی الْأُسْتَاذُ مُسْتَرِیْحاً
(استاد نے چاشت کے وقت آرام کیا)
أَمْسَی الطِّفْلُ نَائِماً
ظَلَّ الْعَالِمُ مُسْافِراً
(عالم نے دن کے وقت سفر کیا)
بَاتَ الْقَاصِدُ مُنْتَظِراً
(قاصدرات بھر انتظار کرتا رہا )
۸، ۹، ۱۰، ۱۱۔ مَا زالَ ، مَا بَرِحَ، مَا فَتِیئَ، مَا انْفَکَّ:
یہ چاروں افعال خبر کے استمرار پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے:
مَا زَالَ الْمَرِیْضُ بَاکِیاً
مَا بَرِحَ زَیْدٌ یَضْرِبُ
مَا فَتِیئَ الْیَھُوْدُ أَعْدَاءً لِلاِسْلاَمِ
(یہود اسلام سے دشمنی کرتے رہے)
مَا انْفَکَّ أَعْدَاءُ الاِسْلاَمِ یَکِیْدُوْنَ لَہٗ
(دشمنان ِاسلام اس کے خلاف سازش کرتے رہے)۔
۱۲۔ مادام:
یہ ماقبل فعل کی مدت بیان کرنے کے لیے آتاہے۔دَامَسے پہلے مَا مصدریہ ظرفیہ ہے۔ جیسے:
اِجْلِسْ مَادَامَ زَیْدٌ جَالِساً
(تو زید کے بیٹھنے تک بیٹھ)
۱۳، ۱۴، ۱۵، ۱۶۔ عَادَ، اٰض، غَدَا، رَاحَ:
یہ چاروں جب ناقصہ ہوں تو صَارَ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جیسے:
اٰضَ، غَدَا، رَاحَ زَیْدٌ غَنِیًّا