Brailvi Books

نصاب النحو
77 - 268
    او ر اگر تامہ ہوں تو پھر اپنے اپنے معنی میں ہونگے یعنی عَادَ بمعنی ''لوٹنا''۔جیسے:
عَادَ زَیْدٌ مِنْ سَفَرِہٖ
 (زید اپنے سفر سے واپس آیا)اٰضَ بمعنی ''پھرنا''۔ جیسے:
اٰضَ زَیْدٌ مِنْ سَفَرِہٖ
(زید اپنے سفر سے واپس آیا) غَدَابمعنی ''صبح کے وقت جانا''۔ جیسے:غَدَا زَیْدٌ(زید صبح کے وقت گیا)رَاحَبمعنی ''شام کے وقت جانا''۔ جیسے:رَاحَ زَیْدٌ (زیدشام کے وقت گیا)۔ 

۱۷۔ لیس: 

    یہ اپنے اسم سے زمانہ حال میں خبر کی نفی پر دلالت کر تاہے۔ جیسے:لَیْسَ الْمُتَکَبِّرُ نَاجِحاً(متکبر آدمی کامیاب نہیں) 

افعال ناقصہ کے چند ضروری قواعد

    ۱۔ ان کے اسم اورخبر کے وہی احکام ہیں جو مبتدأ اور خبر کے ہیں۔ اتنا فرق ہے کہ مبتدأ کی خبر مرفوع اور ان کی خبر منصوب ہوتی ہے۔

    ۲۔جس طرح مبتدأ کی خبر کو مبتدأ پر مقدم کرناجائز ہے اسی طرح افعال ناقصہ کی خبر کو بھی ان کے اسماء پر مقدم کرنا جائز ہے ۔جیسے:کَانَ قَائِماً زَیْدٌ۔

    ۳۔ افعال ناقصہ میں سے جن افعال کے شروع میں لفظ''مَا''نہیں آتا ان میں خود ان افعال پر بھی خبرکو مقدم کرنا جائز (۱) ہے۔ جیسے: قَائِماً کَانَ زَیْدٌ۔

    ۴۔ظَلَّ، بَاتَ، أَمْسٰی، أَصْبَحَ، أَضْحٰی یہ پانچوں بھی صَارَ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ، اس صورت میں ان سے وقت مراد نہیں ہوتا صرف تبدیلی حالت مقصود ہوتی ہے۔
(۱)…… لیس کے بارے میں اختلاف ہے کہ اس کی خبر کو اس پر مقدم کرسکتے ہیں یا نہیں، جمہور کے نزدیک تقدیم جائز ہے، جبکہ بعض منع فرماتے ہیں۔
Flag Counter