Brailvi Books

نصاب النحو
75 - 268
بلکہ فاعل کے بارے میں خبر کے محتاج ہوتے ہیں اور یہ محتاجی نقص ہے اس لیے ان افعال کو ''افعال ناقصہ''(نامکمل افعال)کہا جاتا ہے۔اور جو افعال اپنے فاعل سے مل کرمکمل جملہ بن جاتے ہیں انہیں''افعال تامّہ'' کہتے ہیں۔جیسے:
قَامَ زَیْدٌ، فَازَ خَالِدٌ
وغیرہ۔ 

افعال ناقصہ سترہ (۱۷)ہیں :
    ۱۔کَانَ ۲۔صَارَ ۳۔ظَلَّ ۴۔بَاتَ ۵۔ أَصْبَحَ ۶۔أَضْحٰی ۷۔أَمْسٰی ۸۔عَادَ ۹۔اٰضَ ۱۰۔غَدَا ۱۱۔رَاحَ ۱۲۔مَا زَالَ ۱۳۔مَا انْفَکَّ ۱۴۔مَا بَرِحَ ۱۵۔مَافَتِیئَ ۱۶۔مَا دَامَ ۱۷۔لَیْسَ۔
۱۔ کان:

    یہ چار طریقوں سے استعمال ہوتاہے:(۱)فعل ناقص کے طورپرجبکہ یہ اپنے فاعل سے ملکر مکمل جملہ نہ بن رہاہو۔جیسے:
کَانَ الشَّارِعُ مُزْدَحِماً ۔
    (۲)فعل تام کے طور پر جبکہ یہ صرف اپنے فاعل سے مل کر مکمل جملہ بن جائے ، اس صورت میں یہ حَصَلَ اور ثَبَتَ کے معنی میں ہوتاہے۔ جیسے:کَانَ مَطْرٌ(بارش ہوئی )

    (۳)بطورزائد کہ اگر اسے عبارت سے نکال بھی دیا جائے تو اصل معنی میں کوئی فرق نہ آئے ۔جیسے:
 (کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا )
 ( وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے)
    (۴) کَانَ بمعنی صَارَ۔ جیسے:
کَانَ الشَّجَرُ مُثْمِراً
 (درخت پھل دا ر ہوگیا) 

۲۔ صار:

    یہ اپنے اسم کی حالت یا صفت کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتاہے۔جیسے:صَارَ
Flag Counter