Brailvi Books

نصاب النحو
71 - 268
الحصول ہو۔ جیسے:
لَیْتَ زَیْداً یجیئ
 (کاش !زید آجائے)یاناممکن الحصول ہو۔جیسے کوئی بوڑھا شخص کہے:
لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ
 (کاش ! جوانی لوٹ آئے)۔

(۵)۔ترجی کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس میں کسی ممکن الحصول چیز کی امید پائی جائے خواہ وہ چیز محبوب ہو۔ جیسے: لَعَلَّ عُمَرَ نَاجِحٌ (شاید عمر کامیاب ہوگا)یا غیرمحبوب ہو۔جیسے: لَعَلَّ زَیْداً رَاسِب (شاید زید ناکام ہوجائے گا)۔

توضیح :

    تمنی اور ترجی میں فرق یہ ہے کہ تمنی میں جس چیز کی آرزو پائی جاتی ہے وہ محبوب ہوتی ہے قطع نظر اس سے کہ وہ ممکن ہویا محال، اور ترجی میں جس چیزکی امید پائی جاتی ہے وہ ممکن ہوتی ہے قطع نظر اس سے کہ وہ محبوب ہویامکروہ۔
(۶)۔عقود کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس کے ذریعے کوئی عقدمنعقد(طے)کیا جائے۔ جیسے:بِعْتُ(میں نے بیچا)اِشْتَرَیْتُ (میں نے خریدا) نَکَحْتُکِ(میں نے تجھ سے نکاح کیا) حَرَّرْتُ غُلَامِیْ(میں نے اپنے غلام کو آزاد کیا)۔

(۷)۔عرض کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس کے ذریعے کسی کام پر نرمی سے ابھارا جائے ۔جیسے:
أَلَاتَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْراً
 (آپ ہمارے ہاں کیوں نہیں آتے تاکہ آپ بھلائی کو پہنچیں)۔

توضیح:

    عرض میں متکلم ،مخاطب کو جس کام پر ابھار رہاہوتاہے اسے اس کے کرنے کی امیدنہیں
Flag Counter