Brailvi Books

نصاب النحو
70 - 268
سبق نمبر: 19

     (۔۔۔۔۔۔جملہ انشائیہ کا بیان۔۔۔۔۔۔)
جملہ انشائیہ کی تعریف:

    وہ جملہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ جیسے: زَیِّنْ اَخْلَاقَکَ (اپنے اخلاق سنوارو)
لَاتَغْضَبْ عَلی اَحَدٍ
 (کسی پر غصہ مت کرو)۔ 

جملہ انشائیہ کی اقسام

    جملہ انشائیہ کی مشہوربارہ اقسام ہیں:۱ امر، ۲نہی، ۳استفہام، ۴تمنی، ۵ترجی، ۶ عقود، ۷ عرض، ۸نداء، ۹ قسم، ۱۰تعجب، ۱۱دعا، ۱۲مدح وذم۔

(۱)۔ امرکی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس کے ذریعے مخاطب سے کوئی کام طلب کیا جائے .جیسے: اِشْرَبِ اللَّبَنَ۔

(۲)۔نہی کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس کے ذریعے کسی کام سے روکا جائے۔ جیسے:لَا تَنْظُرِ الْاَفْلامَ۔ 

(۳)۔استفہام کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس کے ذریعے کوئی بات دریافت کی جائے۔ جیسے:
اَ رَضِیَ زَیْدٌ بِاَن یَّذْہَبَ فِی الْاِجْتِمَاعِ؟
 (۴)۔تمنّی کی تعریف:

    وہ جملہ انشائیہ جس میں کسی محبوب چیز کے حصول کی آرزو پائی جائے خواہ وہ چیز ممکن
Flag Counter