| نصاب النحو |
ہوتی ۔جیسے آپ کے پاس کوئی مہمان آکر بیٹھتاہے پھرجب وہ واپس جانے کیلئے کھڑاہوتاہے توآپ اس سے کہتے ہیں: ''کیاآپ چائے نہیں پئیں گے''اس موقع پر آپ کو یہ امید نہیں ہوتی کہ وہ آپ کی بات مان لیگا خاص طورپر جب آپ اس کی پہلے ہی خدمت کرچکے ہوں۔
(۸)۔نداء کی تعریف:
وہ جملہ انشائیہ جس میں بذریعہ حرف نداء مخاطب کی توجہ مطلوب ہو ۔ جیسے: یَازَیْدُ۔
(۹)۔قسم کی تعریف:
وہ جملہ انشائیہ جوقسم پر مشتمل ہو۔جیسے :وَاللّہِ لَاُفَہِّمَنَّ زَیْداً
(اللہ کی قسم! میں ضرور زید کو سمجھاؤنگا)۔
(۱۰)۔تعجب کی تعریف:
وہ جملہ انشائیہ جس میں کسی چیز پر تعجب کا اظہار کیا جائے۔جیسے: مَا أَحْسَنَہ، (وہ کیا ہی حسین ہے!)
(۱۱)۔دعاء کی تعریف:
وہ جملہ انشائیہ جو دعاء پرمشتمل ہو ۔جیسے:جَزَاکَ اللہُ خَیْراً، بَارَکَ اللہُ۔
(۱۲)۔مدح وذم کی تعریف:
وہ جملہ انشائیہ جس میں کسی کی تعریف یا برائی کی جائے۔ جیسے:نِعْمَ الصَّبِیُّ بَکْرٌ
(بکرکتنا اچھا بچہ ہے)
بِئْسَ الرَّجُلُ زَیْدٌ
(زید کتنا برا آدمی ہے)