| نصاب النحو |
وصف کی شرط:
وصف کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ اصل وضع میں وصف ہو۔یعنی اس کی وضع ہی وصفی معنی کے لیے ہوئی ہو ۔ جیسے:اَبْیَضُاور أَسْوَدُ وغیرہ۔
فائدہ:
جواسماء اصل وضع میں وصف ہوتے ہیں وہ یہ ہیں : (۱)صفت مشبہ ۔جیسے: أَحْمَرُ، حَسَنٌ۔(۲)اسم تفضیل۔جیسے:اَجْدَرُ، اَلْیَقُ۔ (۳)اسم فاعل۔ جیسے:ذَاہِبٌ، قَائِمٌ۔ (۴)اسم مفعول۔جیسے: مَضْرُوْبٌ، مَغْسُوْلٌ۔(۵)ایک سے لیکر دس تک وہ اسماء اعداد جو فُعَالُ یا مَفْعَلُ کے وزن پر معدول ہوں۔جیسے:أُحَادُ، مَوْحَدُ، ثُنَاءُ، مَثْنٰی، ثُلٰثُ، مَثْلَثُ
وغیرہ.
تنبیہ:
مذکورہ تمام اسماء میں ایک سبب وصف پایاجارہاہے اور جن اسماء میں دوسراسبب بھی پایاجارہاہے وہ غیر منصرف ہوں گے۔جیسے نمبر2 ، نمبر5 کی تمام مثالوں اور نمبر1کی پہلی مثال میں۔اور جن میں دوسرا سبب نہیں پایاجارہا وہ منصرف ہوں گے۔ جیسے باقی مثالوں میں؛ کیونکہ ایک سبب سے اسم ''غیر منصرف'' نہیں ہوتا۔
(۳) تانیث کی تعریف:
کسی اسم کا مؤنث ہونا ۔جیسے: طَلْحَۃُ، ھِنْدٌ۔
وضاحت:
علامت تانیث کبھی لفظاًہوتی ہے اورکبھی معنی، لفظاًعلامت تانیث تین طرح کی ہوتی ہیں جیسا کہ تانیث کے سبق میں گزرا۔