وغیرہ۔
۲۔عدل تقدیری کی تعریف:
وہ اسم معدول جس میں(غیر منصرف ہونے کے علاوہ)اصلی صیغے سے معدول ہونے کی دلیل موجودنہ ہو۔جیسے:عُمَرُ، زُفَرُ۔
توضیح:
یہ دونوں عَامِرٌ اور زَافِرٌ سے معدول ہیں مگر ان میں غیرمنصرف ہونے کے علاوہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ یہ عامر اور زافر سے معدول ہیں ۔مگرچونکہ اہل عرب ان کوغیر منصرف استعمال کرتے ہیں اور ان میں سوائے علمیت کے اور کوئی دوسرا سبب بھی نہیں پایا جارہاہے اور ایک سبب سے کوئی اسم غیر منصرف نہیں ہوتالہذا اس میں دوسراسبب عدل فرض کر لیا گیاہے اورعُمَرُ کوعَامِرٌسے اور زُفَرُکو زَافِرٌ سے معدول مان لیاگیا۔
تنبیہ:
عدل کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط نہیں۔
(۲) وصف کی تعریف:
اسم کاایسی ذات پر دلالت کرنے والاہوناجس کے ساتھ اس کی کوئی صفت بھی ماخوذ ہو۔ جیسے:أَحْمَرُ(سرخ)۔
توضیح:
لفظ أَحْمَرُ ایک ایسی ذات پر دلالت کررہاہے جس کے ساتھ اس کی ایک صفت یعنی ''سرخ ہونا''بھی ماخوذہے۔اسی طرح أَخْضَرُ،اَسْوَدُ وغیرہ ہیں۔