Brailvi Books

نصاب النحو
66 - 268
    اورمعنیً علامت تانیث صرف ایک ہوتی ہے اور وہ ''ۃ''ہے ۔جیسے: قَدَمٌ، دَارٌ وغیرہ.

فائدہ:

    (۱) وہ تانیث جس میں علامت تانیث الف مقصورہ یاالف ممدودہ ہو اسے ''تانیث بالالف''کہتے ہیں۔اور جس میں علامت تانیث ''ۃ''لفظاًہواسے''تانیث لفظی''کہتے ہیں۔ اور جس میں تقدیراً ہواسے ''تانیث معنوی'' کہتے ہیں۔

شرائط:

    (۱)تانیث بالالف (چاہے الف ممدودہ کے ساتھ ہویاالف مقصورہ کے ساتھ)دوسببوں کے قائم مقام ہوتی ہے اور اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے کوئی شرط بھی نہیں ہے۔

    (۲)تانیث لفظی کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے اسم ِمؤنث کا علم ہوناشرط ہے۔ جیسے: طَلْحَۃُ، فَاطِمَۃُ۔

    (۳)تانیث معنوی میں جواز ِمنعِ صرف کے لیے مؤنث کا علم ہوناشرط ہے ،اور اگر اس کے ساتھ درج ذیل تین چیزوں میں سے کوئی چیز پائی جائے تواسے غیر منصرف پڑھنا واجب ہوجائے گا: 

    ۱۔وہ اسم تین حروف سے زائد حروف پر مشتمل ہو۔جیسے:زَیْنَبُ۔ ۲۔ اگر وہ اسم تین حرفی ہوتو متحرک الاوسط ہو۔جیسے:سَقَرُ۔ ۳۔ وہ اسم عجمہ ہو۔جیسے:مَاہُ، جُوْرُ (شہروں کے نام)۔

(۴) تعریف کی تعریف:

     کسی اسم کا معرفہ ہونا۔ جیسے: أَحْمَدُ، زَیْنَبُ وغیرہ۔