۳۔جب فاعل کے ساتھ ایسی ضمیر متصل ہو جومفعول کی طرف راجع ہو۔جیسے:ضَرَب لِصَّاً رَفِیْقُہ،۔
فائدہ:
جب فاعل یا مفعول میں سے کسی کووجوباً مقدم کرنے کی صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہ پائی جائے تو ان دونوں میں تقدیم و تاخیر جائز ہے۔جیسے:
رَأی زَیْدُنِ الْجَامُوْسَ یارَأی الْجَامُوْسَ زَیْدٌ، أَکَلَ یَحْیٰی الْکُمَّثْرَی یا أَکَلَ الْکُمَّثْرَی یَحْیٰی، ضَرَبَتِ الْحُبْلٰی الْفَتَی یا ضَرَبَتِ الْفَتَی الْحُبْلٰی۔
فعل، فاعل اور مفعول کا حذف:
۱۔جب حذف فعل پرکوئی قرینہ(ایساامر جو فعل محذوف پر دلالت کرے)پایا جائے تو فعل کو حذف کرنا جائز ہے۔ جیسے کوئی سوال کرے:مَنْ جَاءَ ؟ اور اس کے جواب میں صرف:زَیْدٌکہاجائے تو اس سے پہلےجَاءَ فعل محذوف ہو گااور زَیْدٌ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع
دوسری مثال میں قرینہ لفظیہ ہے۔