| نصاب النحو |
۴۔ جب فاعل ضمیر ہو اور اس کا مرجع مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو ۔ جیسے:اَلرِّجَالُ ذَھَبْنَ اوراَلرِّجَالُ ذَھَبُوْا۔
تنبیہ:
اس صورت میں فعل واحد مؤنث بھی آسکتا ہے۔ جیسے:اَلرِّجَالُ ذَھَبَتْ۔
۵۔ جب فاعل اسم جمع ہو ۔جیسے:جَاءَ الْقَوْمُ اورجَاءَ تِ الْقَوْمُ۔
تنبیہ:
اجزاء ِکلام کی ترتیب میں اصل یہ ہے کہ پہلے فعل آئے پھر فاعل اوراس کے بعد مفعول آئے ۔جیسے:اَکَلَتِ الْبِنْتُ الْخُبْزَ۔
مگر کبھی مفعول کو (جوازاً یا وجوباً)فاعل پر مقدم کر دیا جاتا ہے ۔ جیسے:
أَکْرَمَ عَمْرواً زَیْدٌ۔
اور کبھی فعل پر بھی مقدم کردیا جاتاہے۔ جیسے:زَیْداً ضَرَبْتُ۔البتہ فعل پر فاعل کی تقدیم جائز نہیں ۔
درج ذیل صورتوں میں فاعل کو مفعول پر مقدم کرنا ضروری ہے:
۱۔ جب فاعل ضمیر مرفوع متصل ہو ۔جیسے :أَکَلْتُ خُبْزاً۔
۲۔ جب فاعل اور مفعول میں اعراب اور قرینہ(۱)دونوں منتفی ہوں جوان میں سے کسی ایک کے فاعل اور ایک کے مفعول ہونے پر دلالت کرے۔جیسے:سَلَّمَ مُوْسٰی عِیْسٰی۔
1۔۔۔۔۔۔قرینہ وہ چیز کہلاتی ہے جو بغیر وضع کے کسی شئ پر دلالت کرے۔جیسے:أَکَلَ الْکُمَّثْرَی یَحْیٰ۔ میں الْکُمَّثْرَی کا ازقبیل مأکول اور یَحْیٰ کا ازقبیل اٰکل ہونااس بات پر دلالت کرتاہے کہ یَحْیٰ فاعل ہے اوراَلْکُمَّثْرَی مفعول ہے۔اسی طرح ضَرَبَتِ الْفَتَی الْحُبْلٰی۔میں فعل کا مؤنث ہونااس بات پر دلالت کررہاہے کہ فاعل اَلْحُبْلٰی ہے اور مفعول اَلْفَتَی ہے۔پہلی مثال میں قرینہ معنویہ ہے اور