Brailvi Books

نصاب النحو
57 - 268
تاویل میں ہوتاہے۔جیسے:
أَعْجَبَنِیْ أَنْ تَجْتَھِدَ۔
اس میں أَنْ تَجْتَہِدَمصدر کی تاویل میں ہوکر فاعل واقع ہورہاہے۔اسی طرح بَلَغَنِیْ أَنَّکَ عَالِمٌ۔اس میں أَنَّ حر ف مشبہ بالفعل اپنے اسم اور خبر کے ساتھ مل کر فاعل بن رہا ہے۔

فعل کی فاعل کے ساتھ مطابقت کا بیان

درج ذیل صورتوں میں فعل کو مذکر لانا واجب ہے:

    ۱۔جب فاعل مذکر ہو۔ جیسے:جَلَسَ وَلَدٌ۔ 

    ۲۔جب فاعل مؤنث حقیقی ہو لیکن فعل اور فاعل کے درمیان اِلاَّ کا فاصلہ آجائے جیسے:مَا نَصَرَ اِلاَّ فَاطِمَۃُ۔ 

درج ذیل صورتوں میں فعل کو مؤنث لانا واجب ہے:

    ۱۔ جب فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔ جیسے:قَالَتْ اِمْرَأَۃٌ۔ 

     ۲۔ جب فاعل ضمیر ہو اور مؤنث حقیقی یا غیر حقیقی کی طرف لوٹ رہی ہو۔ جیسے:ھِنْدٌ قَامَتْ، اور اَلشَّمْسُ طَلَعَتْ۔

درج ذیل صورتوں میں فعل کو مذکر ومؤ نث دونوں طرح لاناجائز ہے:

    ۱۔ جب فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل وفاعل کے درمیان اِلاَّ کے علاوہ کسی اور کلمے سے فاصلہ آجائے ۔جیسے:
جَاءَ الْیَوْمَ فَاطِمَۃُ ،
اور
جَاءَ تِ الْیَوْمَ فَاطِمَۃُ۔
    ۲۔جب فاعل مؤنث معنوی ہو ۔جیسے:
طَلَعَ الشَّمْسُ
اور
طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔
    ۳۔ جب فاعل جمع مکسر ہو ۔جیسے:
جَاءَ الرِّجاَلُ
اور
جَاءَ ت الرِّجَالُ۔
Flag Counter