Brailvi Books

نصاب النحو
56 - 268
سبق نمبر: 17

     (۔۔۔۔۔۔جملہ فعلیہ کابیان۔۔۔۔۔۔)
جملہ فعلیہ کی تعریف:

    وہ جملہ جو فعل اور فاعل سے مرکب ہو۔ جیسے: جَاءَ زَیْدٌ۔

فائدہ:

    (۱)فعل کو''مسند''اور فاعل کو''مسند الیہ''کہتے ہیں ۔

    (۲)ہر فعل چاہے لازم ہو یا متعدی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے(۱)اور متعدی ہوتو فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول بہ کو نصب بھی دیتاہے۔ جیسے:
شَرِبَ الْوَلَدُ اللَّبَنَ۔
فاعل کی تعریف:

    وہ اسم جس سے پہلے کوئی فعل یا شبہ فعل (اسم فاعل ،اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل یا مصدر) آجائے اور وہ فعل یا شبہ فعل اس اسم کے ساتھ قائم ہو۔ جیسے:
جَاءَ زَیْدٌ، زَیْدٌ ضَارِبٌ أَبُوْہ،۔
                         فاعل کی اقسام
    فاعل کبھی اسم ظاہر ہوتاہے ۔جیسے:لَمَعَ الْبَرْقُ میں الْبَرْقُ اسے ''مظہر''بھی کہتے ہیں. 

کبھی اسم ضمیر ہوتاہے خواہ بارز ہو یامستتر۔جیسے:ضَرَبْتُ میں تُ ضمیربارز فاعل ہے اورزَیْدٌ ضَرَبَ میں ھُوَ ضمیر مستتر فاعل ہے،اسے ''مضمر''بھی کہتے ہیں۔اور کبھی فاعل مصدر کی
1۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات فاعل لفظاً مجرورہوتاہے مگرمحلاً وہ مرفوع ہی کہلائے گا۔جیسے:کَفٰی بِاللہِ شَھِیْداً۔
Flag Counter