Brailvi Books

نصاب النحو
52 - 268
سبق نمبر: 16

      (۔۔۔۔۔۔جملہ اسمیہ کا بیان۔۔۔۔۔۔)
جملہ اسمیہ کی تعریف:

    وہ جملہ جو مبتداء اور خبر سے مرکب ہو۔جیسے:
زَیْدٌ عَاقِلٌ، زَیْدٌ فَحَصَ الْمَرِیْضَ
مبتدأ وخبرکے بعض احکام:

    ۱۔ وہ اسم جو عوامل لفظیہ سے خالی ہو اگر مسند الیہ ہو تواسے ''مبتدأ ''اوراگر مسند ہوتواسے ''خبر'' کہتے ہیں۔جسے مذکورہ بالامثالوں میں لفظ زَیْدٌ مبتدأ جبکہعَاقِلٌ اور فَحَصَ الْمَرِیْض خبر ہیں۔

    ۲۔ مبتدا ءا کثر معرفہ اور خبر اکثر نکرہ ہوتی ہے۔ جیسے:زَیْدٌ عَالِمٌ ، کبھی نکرہ مخصوصہ بھی مبتدأ بن جاتا ہے ۔جیسے:
طِفْلٌ صَغِیْرٌ جَمِیْلٌ۔
    ۳۔ ایک مبتداءکی کئی خبریں بھی ہو سکتی ہیں ۔جیسے:
زَیْدٌ عَالِمٌ فَاضِلٌ صَالِحٌ۔
    ۴۔ فعل مضارع اَنْکے ساتھ ہو اور اس کے بعد کوئی اسم نکرہ آجائے تو فعل مضارع کو مصدرکی تاویل میں کر کے مبتدأ بنائیں گے اور اسم نکرہ کو خبر۔ جیسے:
اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَکُمْ۔
    ۵۔ مبتدا ء کی خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی جملہ ۔جیسے:
زَیْدٌ عَالِمٌ، الْفِدَائِیَّۃُ اِحْتَجَزَالطَّائِرَۃَ فِیْ مَطَارٍ
 (جانباز نے ائیرپورٹ پرہوائی جہاز کوروک لیا)۔

    ۶۔ خبراگر جملہ ہو تواس میں عائد کا ہوناضروری ہے جو مبتدأ کی طرف لوٹے،یہ عائد عموماً ضمیرہوتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تذکیرو تانیث اورافرادو تثنیہ وجمع میں مبتدأ
Flag Counter