Brailvi Books

نصاب النحو
45 - 268
اور ما بعد کے لیے مضاف بنیں گے ۔جیسے:
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللہِ
اور
فَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ۔
پہلی مثال میں اِبْنُ مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر لفظ مُحَمَّدُ کی صفت بنے گا۔ اور دوسری مثال میں بِنْتُ اپنے مضاف الیہ سے ملکر لفظ فَاطِمَۃُ کی صفت بنے گا۔

    ۱۴۔ بعض اوقات ایک ترکیب میں ایک سے زائد بھی مضاف اورمضاف الیہ ہوتے ہیں۔ جیسے:قَلَمُ وَلَدِ زَیْدٍ(زید کے لڑکے کاقلم)اس مثال میں قَلَمُ مضاف ہے وَلَدِ کی طرف اور وَلَدِ پھر مضاف ہے زَیْدٍ کی طرف ۔

    ۱۵۔ اگرمضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم کا صیغہ ہو تو بوقت اضافت اس کے آخر سے نونِ تثنیہ اور نونِ جمع گر جاتا ہے۔ جیسے:صَحْنَا رَجُلٍ (مرد کی دوپلیٹیں)یہ اصل میں صَحْنَانِ تھا ،اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔اسی طرح مُسْلِمُوْ بَاکِسْتَانَ (پاکستان کے مسلمان)یہ اصل میں مُسْلِمُوْنَ تھا ۔ 

    ۱۶۔نکرہ کی اضافت اگر معرفہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ بھی معرفہ بن جاتاہے اور اگر نکرہ کی طرف ہو تو نکرہ مخصوصہ بن جائے گا۔جیسے:
مَاکِیْنَۃُ زَیْدٍ،مُشْطُ رَجُلٍ۔
تنبیہ:

    بعض اسماء ''مُتَوَغِّل فِی الْاِبْہَام'' کہلاتے ہیں یعنی ابہام اور پوشیدگی میں بہت غلو کیے ہوئے جیسے لفظ: نَحْوُ، مِثْلُاور غَیْرُ وغیرہ ان کی اضافت اگرچہ معرفہ کی طرف ہومگرپھر بھی یہ معرفہ نہیں بنتے بلکہ نکرہ ہی رہتے ہیں۔
Flag Counter