Brailvi Books

نصاب النحو
44 - 268
اور اسم کی طرف مضاف نہ ہو۔ جیسے:
مِنْشَفَۃُ الرَّجُلِ، مِنْشَفَۃُ رَجُلٍ۔
    ۸۔ مرکب اضافی پوراجملہ نہیں ہوتا بلکہ جملہ کا جز بنتا ہے۔ جیسے:اَزْرَارُ زَیْدٍ حَسَنَۃٌ۔ اس جملے میں اَزْرَارُ زَیْدٍ جو مرکب اضافی ہے ، مبتدا بن رہا ہے ،اورحَسَنَۃٌ اس کی خبر ہے۔ 

    ۹۔ مندرجہ ذیل الفاظ عموماً مضاف ہو کرہی استعمال ہوتے ہیں:
    کُلٌّ، بَعْضٌ، عِنْدَ، ذُوْ، أُولُوْ، غَیْرُ، دُوْنَ، نَحْوُ، مِثْلُ، تَحْتُ، فَوْقُ، خَلْفُ، قُدَّامُ، حَیْثُ، أَمَامُ، مَعَ، بَیْنَ، أَیٌّ، سَائِرٌ، لَدَی، لَدُنْ،
وغیرہا۔ 

    ۱۰۔ تین سے لیکر دس تک اسماء اعداد اور لفظ مِائَۃٌ(سو)اورأَلْفٌ(ہزار)بھی عموماً مابعد معدود کی طرف مضاف ہوتے ہیں ۔ جیسے:
ثَلاثَۃُ أَقْلاَمٍ، مِائَۃُ عَامِلٍ، أَلْفُ دِرْھَمٍ
وغیرہ 

    ۱۱۔ اسم کے ساتھ متصل ضمیر ہمیشہ مضاف الیہ ہو گی۔ جیسے:رَبُّہ،، رَبُّنَا، رَبُّکُمْ وغیرہ۔

    ۱۲۔ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کوئی تیسری چیزحائل نہیں ہوسکتی، لہٰذا اگرمضاف کی صفت ذکر کرنامقصود ہو تومضاف الیہ کے بعد ذکرکی جائے گی۔مثلاً کہناہے:''مرد کانیک لڑکا''تو اس طرح کہیں گے:''وَلَدُ الرَّجُلِ الصَّالِحُ''۔ 

    اوراگر مضاف اورمضاف الیہ دونوں کی صفت بیان کرنامقصود ہے تو مضاف الیہ کے بعد پہلے اس کی اور پھر مضاف کی صفت بیان کی جائے گی ۔مثلاً کہناہے:''نیک مرد کا نیک بیٹا '' تو اس طرح کہیں گے:
''اِبْنُ الرَّجُلِ الصَالِحِ الصَالِحُ''۔
اور اس بات کی پہچان کہ یہ صفت مضاف کی ہے یا مضاف الیہ کی، اعراب سے ہوگی ۔

    ۱۳۔ اگرلفظ ابنیا ابنۃ یا بنت، اَعلام کے درمیان آجائیں تو ما قبل کے لیے صفت
Flag Counter