مرکب اضافی کی تعریف:
وہ مرکب ناقص جس میں ایک کلمہ کی اضافت دوسرے کلمہ کی طرف ہو۔ جیسے: وَلَدُ زَیْدٍ۔
فوائد وقواعد:
۱۔ جس اسم کی اضافت کی جائے اسے''مضاف''اورجس کی طرف اضافت کی جائے اسے ''مضاف الیہ'' کہتے ہیں ۔ جیسے:مِشْبَکُ زَیْدٍ(زید کا کلپ)میں مِشْبَک ُکی اضافت زَیْدٍ کی طرف کی گئی ہے لہذا مِشْبَکُ مضاف اورزَیْدٍ مضاف الیہ ہے۔
۲۔عربی زبان میں پہلے مضاف آتاہے پھر مضاف الیہ ۔جیسے اوپر کی مثالوں میں۔
۳۔ مرکب اضافی کااردو ترجمہ کرتے وقت پہلے مضاف الیہ کا ترجمہ کریں گے پھر مضاف کا ۔
۴۔ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان اردو ترجمہ کرتے وقت عموماً لفظ ''کا''، ''کی'' ، ''کے'' یا ''را''، ''ری''، ''رے''وغیرہ آتے ہیں۔ جیسے :مُسْتَشْفٰی زَیْدٍ (زید کا ہسپتال)أَطْفَالُ مَدْرَسَۃٍ (مدرسے کے بچے)کِتَابُ زَیْدٍ(زید کی کتاب)قَلَمِیْ(میرا قلم)۔
۵۔ مضاف پر نہ تو تنوین آتی ہے اور نہ ہی الف لام داخل ہوتاہے۔
۶۔ مضاف کا اعراب عامل کے مطابق ہوتاہے اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔
۷۔ مضاف الیہ پر تنوین بھی آسکتی ہے اور الف لام بھی داخل ہوسکتا ہے بشرطیکہ وہ خود کسی