Brailvi Books

نصاب النحو
37 - 268
۲۔مشابہ مبنی الاصل کی تعریف:

    وہ اسم جو مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔جیسے: مَتٰی، أَیْن َوغیرہ کہ یہ حرفِ استفہام (أ)کے مشابہ ہیں؛ کیونکہ یہ معنی  استفہام پر مشتمل ہیں ۔اسے ''اسم غیر متمکن ''بھی کہتے ہیں۔ 

صاحب مفصل نے اس مشابہت کی چند صورتیں بیان کی ہے :

    (۱) کوئی اسم مبنی الاصل کے معنی کو متضمن ہو ۔جیسے :أَیْنَ، مَتٰی وغیرہما تمام اسماء استفہام کہ یہ ہمزہ استفہام کے معنی کو متضمن ہوتے ہیں،اسی طرح مَنْ، اِذَا وغیرہما تمام اسماء شرط کہ یہ حرف شرط اِنْ کے معنی کو متضمن ہوتے ہیں۔

    (۲) کوئی اسم احتیاج الی الغیرمیں مبنی الاصل کے مشابہ ہو۔جیسے :تمام مبہمات (ضمائر، موصولات، اسماء اشارات)کہ یہ اپنے معنی پر دلالت کرنے میں مرجع، صلہ اور مشارالیہ کے محتاج ہوتے ہیں جس طرح حرف اپنے معنی پر دلالت کرنے میں ضمِ ضمیمہ کامحتاج ہوتاہے۔

    (۳)کوئی اسم مبنی الاصل کے موقع میں واقع ہو۔ جیسے :نَزَالِ وغیرہ کہ یہ اِنْزِلْ کے موقع میں واقع ہوتاہے ۔

    (۴)کوئی اسم اُس اسم کے مشاکل (شکل وصورت میں برابر)ہو جو مبنی الاصل کے موقع میں واقع ہونے کی وجہ سے مبنی ہو۔جیسے: فَجَارِ کہ یہ نَزَالِ کے مشاکل ہے اور نَزَالِ مبنی الاصل اِنْزِلْ کے موقع میں واقع ہونے کی وجہ سے مبنی ہے ۔

    (۵)کوئی اسم اُس اسم کے موقع میں واقع ہو جو مبنی الاصل کے مشابہ ہونے کی وجہ سے مبنی ہو۔ جیسے:یَا زَیْدُ میں زَیْدُ کہ یہ کاف ضمیر کے موقع میں واقع ہے جو مبنی الاصل کاف