Brailvi Books

نصاب النحو
33 - 268
ضمیر کی طرف مضاف ہوں۔اگر یہ بجائے اسم ضمیر کے اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوں تو ان کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا۔ جیسے: 

                     حالت رفعی                                                                                      حالت نصبی                                                                      حالت جری
جَاءَ کِلاَ الرَّجُلَیْنِ          رَأَیْتُ کِلاَ الرَّجُلَیْنِ      مَرَرْتُ بِکِلاَ الرَّجُلَیْنِ
۸۔جمع مذکر سالم اور اس کے ملحقات:

    جمع مذکر سالم کی تعریف پہلے بیان ہوچکی ہے ، اس کے ملحقات سے مراد وہ اسماء ہیں جو جمع تونہ ہوں مگر لفظاً یا معنی جمع مذکر سالم کے مشابہ ہوں ۔جیسے:أُوْلُواورعِشْرُوْنَ سے تِسْعُوْنَتک کی دہائیاں۔

    ان کی حالتِ رفعی واؤ ماقبل مضموم اور حالتِ نصبی وجری یاء ساکن ما قبل مکسورسے آتی ہے ۔جیسے:

                     حالت رفعی                                                                                      حالت نصبی                                                                      حالت جری
جَاءَ مُسْلِمُوْنَ وأُولُوْ مَالٍ وَعِشْرُوْنَ رَجُلاً۔   رَأَیْتُ مُسْلِمِیْن وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔   مَرَرْتُ بِمَسْلِمِیْن وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔
۹۔اسم مقصور:

    وہ اسم جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ جیسے:موسٰی، حبلٰی وغیرہ۔

۱۰۔جمع مذکر سالم کے علاوہ جو اسم یائے متکلم کی طرف مضاف ہو۔جیسے:کُوْبِیْ وغیرہ۔

    ان دونوں قسموں کی حالت رفعی تقدیرِ ضمہ سے ، حالت نصبی تقدیرِ فتحہ سے اور حالت جری تقدیرِ کسرہ سے آتی ہے۔جیسے:
Flag Counter