| نصاب النحو |
ضمیر کی طرف مضاف ہوں۔اگر یہ بجائے اسم ضمیر کے اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوں تو ان کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا۔ جیسے:
حالت رفعی حالت نصبی حالت جریجَاءَ کِلاَ الرَّجُلَیْنِ رَأَیْتُ کِلاَ الرَّجُلَیْنِ مَرَرْتُ بِکِلاَ الرَّجُلَیْنِ
۸۔جمع مذکر سالم اور اس کے ملحقات:
جمع مذکر سالم کی تعریف پہلے بیان ہوچکی ہے ، اس کے ملحقات سے مراد وہ اسماء ہیں جو جمع تونہ ہوں مگر لفظاً یا معنی جمع مذکر سالم کے مشابہ ہوں ۔جیسے:أُوْلُواورعِشْرُوْنَ سے تِسْعُوْنَتک کی دہائیاں۔
ان کی حالتِ رفعی واؤ ماقبل مضموم اور حالتِ نصبی وجری یاء ساکن ما قبل مکسورسے آتی ہے ۔جیسے:
حالت رفعی حالت نصبی حالت جریجَاءَ مُسْلِمُوْنَ وأُولُوْ مَالٍ وَعِشْرُوْنَ رَجُلاً۔ رَأَیْتُ مُسْلِمِیْن وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔ مَرَرْتُ بِمَسْلِمِیْن وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔
۹۔اسم مقصور:
وہ اسم جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ جیسے:موسٰی، حبلٰی وغیرہ۔
۱۰۔جمع مذکر سالم کے علاوہ جو اسم یائے متکلم کی طرف مضاف ہو۔جیسے:کُوْبِیْ وغیرہ۔
ان دونوں قسموں کی حالت رفعی تقدیرِ ضمہ سے ، حالت نصبی تقدیرِ فتحہ سے اور حالت جری تقدیرِ کسرہ سے آتی ہے۔جیسے: