Brailvi Books

نصاب النحو
254 - 268
أَنَّکَ قَائِمٌ ، قِیَامُکَ
کے معنی میں ہے۔ 

ز۔۔۔۔۔۔۸۔حرف رَدع:

    یہ وہ حرف ہے جو ڈانٹنے اورجھڑکنے اورمتکلم کو اس کے عمل سے روکنے کے لئے آتاہے یہ صرف ایک حرف ہے۔ 

    کَلاَّ:۔ کبھی حَقًّاکے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ اورجملہ کی تحقیق کیلئے آتاہے۔ جیسے
(کَلاَّ اِنَّ الاِنْسَانَ لَیَطْغٰی )
ترجمہ کنزالا یمان:''ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے''۔ کبھی یہ ما قبل کی تردید کے لیئے آتا ہے بشرطیکہ اس پر وقف کیا جائے ۔ جیسے کوئی کہے فُلاَنٌ یَبْغَضُکَ (فلاں شخص تجھ سے بغض ر کھتا ہے) تو اس کے جواب میں کہا جائے: کَلاَّ یعنی ہر گز نہیں۔

*۔۔۔۔۔۔۹۔ حرف توقع :

    وہ حرف جو ما ضی پر داخل ہو کر اس کو حال کے قریب کر دے ۔یہ صرف قَدْ ہے ۔ اس میں تحقیق کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور اگر یہ مضارع پر داخل ہو تو اکثر تقلیل کا معنی دیتا ہے ۔    قَدْ رَکِبَ (وہ ابھی ابھی سوار ہواہے )،
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ
(تحقیق مؤمنین فلاح پا گئے)
اِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ
 (جھوٹا کبھی کبھی سچ بولتا ہے )۔

*۔۔۔۔۔۔۱۰۔حروف جواب:

    وہ جو ما قبل کلام کے اثبات کے لیے آتے ہیں وہ چھ ہیں ۔
            ۱۔نَعَمْ ۔۲۔بلٰی۔۳۔أِیْ۔۴۔جَیْرِ۔۵۔أَجَلْ۔۶۔ اِنَّ
Flag Counter