| نصاب النحو |
۱۔نعم:
یہ کلام سابق کو تسلیم کرنے کا فائدہ دیتا ہے جیسے کوئی کہے أَ جَاءَ زَیْدٌ ؟(کیا زید آگیا) تو جواب میں کہا جائے نَعَمْ (ہاں)۔
۲۔بلٰی:
اگر نفی کے جواب میں آئے تو اثبات کا فائدہ دیتا ہے جیسے أَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟( کیا میں تمہارا رب نہیں ) ؟ ۔تو اس کے جواب میں کہا بَلٰی (کیوں نہیں)۔
۳۔اِیْ:
یہ قسم کے لیے آتاہے جیسےقُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہ، لَحَقٌّ ۔
(آپ فرما دیجئے کہ میرے رب کی قسم بے شک وہ ضرور حق ہے )۔
۴ جَیْرِ ۔۵ اَجَلْ ۔۶ اِنَّ:
یہ تینوں خبر دینے والے کی تصدیق کے لیے آتے ہیں خواہ وہ خبر مثبت ہو یا منفی ،
جیسے اگر کوئی کہے أَ جَاءَ کَ زَیْدٌ ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے جَیْرِ،أَجَلْ، اِنَّ تو اسکا مطلب ہوگا جی ہاں آپ نے ٹھیک کہا ۔منفی خبر کے جواب میں جیسے أَلَمْ یَأْ تِکَ زَیْدٌ؟ کے جواب میں جَیْرِ، أَجَلْ ،اِنَّ کہا جائے ۔یہ تینوں بہت قلیل الاستعمال ہیں۔
ز۔۔۔۔۔۔۱۱۔حروف تنبیہ:
یہ تین ہیں جیسے:
۱۔أَلاَ :(أَلاَاِنَّ أَوْلِیَاءَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ)
ترجمہ