(تونے زید کو کیوں نہیں مارا؟) ۔
۲۔ أَلاَ: أَلاَ تَحْفَظُوْنَ دُرُوْسَکُمْ
(تم اپنا سبق یاد کیوں نہیں کرتے؟)۔
۳۔ لَوْلاَ: لَوْلاَ تَتْلُوْالْقُرْآنَ
(تو قرآن کی تلاوت کیوں نہیں کرتا؟) ۔
۴۔ لَوْمَا: لَوْمَا تُصَلِّیَ الصَّلٰوۃَ
(تونماز کیوں نہیں پڑھتا؟) ۔
ز۔۔۔۔۔۔۷۔حروف مصدریہ:
وہ حروف جو جملہ کو مصدر کے معنی میں کردیں ان حروف کو حروف مصدریہ کہتے ہیں۔
۱۔ مَا ۲۔ اَن ۳۔ اَنَّ
مَا، اَ نْ:
مااورا َن دونوں جملہ فعلیہ پر داخل ہوتے ہیں ۔جیسے
ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ
(زمین ان پر تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود) اس مثال میں رَحُبَتْ بِرُحْبِھَامصدر کے معنی میں ہے۔ اور یَفْرَحُکَ أَنْ تَفُوْزَ( تیرا کامیاب ہونا تجھے خوش کرتاہے) اس مثال میں اَنْ تَفُوْزَ ، فَوْزُکَ کے معنی میں ہے۔
اَنَّ:
عَلِمْتُ أَنَّکَ قَائِمٌ
(میں نے تیرے کھڑے ہونے کو جانا) اس مثال میں