اس کا مطلب یہ ہے کہ سردار سوار ہوا، اس کاخادم نہیں ۔
۶۔بَلْ:
یہ معطوف علیہ سے حکم کی نفی کرکے معطوف کیلئے حکم کو ثابت کرنے کیلئے آتاہے۔ جیسے
جَاءَ نِیْ زَیْدٌ بَلْ بَکْرٌ
(میرے پاس زید نہیں بلکہ بکر آیا)۔
۷۔حتی:
حتی انتہائے غایت کیلئے آتا ہے۔ جیسے
قَرَءَ الطُّلاَّبُ حَتَّی الأُستَاذُ
(طالب علموں نے پڑھا حتی کہ استاد نے بھی پڑھا) ۔
۸۔لٰکِنَّ:
یہ اس وہم کو دور کرنے کیلئے آتاہے جو ماقبل کلام سے پیدا ہواہو،یہ جس جملہ میں آئے اس سے پہلے یا اس کے بعد نفی کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے
مَا نَامَ زَیْدٌ لٰکِنْ عَمْرٌو