*۵۔۔۔۔۔۔ أَیٌّ،اور أَیَّۃٌ معرب ہیں۔ صرف ایک صورت میں مبنی ہوتے ہیں، جب یہ مضاف ہوں اورصدرِ صلہ مذکور نہ ہو۔ جیسے
جَاءَ نِیْ أَیُّھُمْ قَائِمٌ
رَأَیْتُ أَیُّھُمْ قَائِمٌ
مَرَرْتُ بَأَیُّھُمْ قَائِمٌ
چند ترکیبی قواعد:
۱۔ اسم موصول اپنے صلے سے ملکر کبھی فاعل ،کبھی مفعول بہ اورکبھی مبتدا و خبر واقع ہوتاہے۔فاعل کی مثال:
جَاءَ مَنْ یَّسْکُنُ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ
(وہ شخص آیا جو مدینہ میں رہتا ہے)۔ مفعول بہ کی مثال:
رَأَیْتُ مَنْ مَّاتَ فِی الصَّحْرَاءِ
(میں نے اس شخص کو دیکھا جو صحراء میں مرا) ۔مبتدا کی مثال:۔
اَلَّذِیْ فِی الْمَسْجِدِ ھُوَ زَیْدٌ
( وہ جو مسجد میں ہے وہ زیدہے) خبر کی مثال:۔
ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہٗ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقّ۔
۲۔ اگر اسم موصول کے بعد جار مجرور آجائیں توجار مجرور کو کسی فعل مقدر کے متعلق کر کے صلہ بنائیں گے اور اکثر ثَبَتَ فعل مقدر نکالتے ہیں ۔ جیسے
جَاءَ الَّذِی (ثَبَتَ) فِی الدَّارِ۔
جَاءَ الَّذِیْ فِی الدَّارِ
جَاءَ فعل اَلَّذِیْ اسم موصول فِیْ جار اَلدَّارِ مجرور ،جار مجرور ملکر فعل مقدر ثَبَتَ کے متعلق ،ثَبَتَ فعل اس میں ھُوَ ضمیر فاعل ،فعل اپنے فاعل اور مُتَعَلِّق سے ملکر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ، موصول صلہ ملکر جَاءَ کا فاعل ،فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ ۔