(اس مثال میں الذی کا صلہ جملہ فعلیہ ہے)۔
۳۔ظرف :
جیسے
أَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِیْ فِیْ بَیْتِیْ
(اس مثال میں الذی کا صلہ ظرف ہے)۔
* ۲۔۔۔۔۔۔جو جملہ اسم موصول کا صلہ بن رہا ہو اس میں ایک ایسی ضمیر کا ہونا ضروری ہے جواسم موصول کی طرف لوٹے اور واحد، تثنیہ، جمع،مذکر اور مونث ہونے میں اسم موصول کے مطابق ہو، اس ضمیر کو ضمیر عائد کہتے ہیں،اور اگر صلہ ضمیر سے شروع ہورہا ہو تو اس ضمیر کو صدرِ صلہ کہتے ہیں ۔ جیسے مذکورہ بالا مثال
میں ھُوَ صدرِ صلہ ہے نیز یہی ضمیراسم موصول الَّذِیْ کی طرف لوٹ رہی ہے اور مفرد و مذکر ہونے میں اسم موصول کے مطابق ہے۔
*۳۔۔۔۔۔۔ ضمیر عائد جب مفعول بہ بن رہی ہوتواسے حذف کرنا جائز ہے۔جیسے
عَلَّمَ الْانْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (یَعْلَمْہ،)۔