یہاں ھُنَّ ضمیر مبہم ہے۔ سَبْعَ سَمٰوٰاتٍ تمییزہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ضَرَبَنِیْ میں ضَرَبَ اور یَاء کے درمیان آنے والے نون کو'' نون وقایہ'' کہا جاتاہے ،جو کہ فعل کے آخر کو کسرہ سے بچاتاہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ صرف غائب کی ضمیر اپنے مرجع کی طرف لوٹتی ہے متکلم اور مخاطب کی ضمیر راجع نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مرجع ہوتاہے۔
ضمیر پڑھنے کا طریقہ:
ضمیر کے ماقبل زبر ہوگایا زیر اگر زبر ہے تو ضمیر پر الٹاپیش پڑھاجائے گا۔ جیسے لَہٗ اور اگر ماقبل زیرہے ۔تو ضمیر پر کھڑا زیر پڑھا جائیگا۔ جیسے بِہٖ اور اگر ضمیر کے ماقبل ساکن ہے۔ توپھر دیکھیں گے کہ وہ یاء ساکن ہے یاغیریاء ساکن اگر یاء ساکن ہے تو پھر ضمیر پر کسرہ پڑھیں گے جیسے۔ فِیْہِ،اگر غیر یاء ساکن ہے تو پھر ضمہ پڑھیں ۔جیسے مِنْہُ مگر قرآن پاک کے چند مقامات اس سے مستثنی ہیں ۔سورہ نور میں وَیَتَّقْہ،ِسورہ کھف میں وَمَا أَنْسَانِیْہُ، سورہ فتح میں عَلَیْہُ اللہ،َ سورہ اعراف وشعراء میں أَرْجِہْ۔
چند ترکیبی قواعد:
(۱)۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر ہمیشہ واحد ،تثنیہ ،جمع اور تذکیر وتانیث میں اپنے مرجع کے مطابق ہوتی ہے۔