٭۔۔۔۔۔۔جب اسم تفضیل کوحرف جر من کے ساتھ استعمال کیا جائے تو اسم تفضیل کا صیغہ ہمیشہ مفرد مذکر ہی استعمال ہوگا،اور اس کا موصوف کے مطابق ہونا شرط نہیں ۔جیسے
سَلْمٰی أَجْدَرُ مِنْ أُخْتِھَا۔
٭۔۔۔۔۔۔ اگر اسم تفضیل نکرہ کی طرف مضاف ہو،تو اس صورت میں واحد مذکر لانا واجب ہے۔ جیسے
زَیْدٌ أَفْضَلُ رَجُلٍ ، زَیْنَبُ أَکْبَرُ اِمْرَأَۃٍ ،ھَاتَانِ أَفْضَلُ اِمْرَأَتَیْنِ۔
٭۔۔۔۔۔۔اگر اسم تفضیل معرفہ کی طرف مضاف ہوتو اس وقت دو صورتیں جائز ہیں ۔ یا تو ماقبل سے مطابقت رکھی جائے یا پھر واحد مذکر لایاجائے۔ جیسے
أَلرِّجَالُ أَفْضَلُ النِّسَاءِ
اَلرِّجَالُ أَفْضَلُوْالنِّسَاءِ
عَائِشَۃُ أَعْلَمُ الزَّوْجَاتِ، عَائِشَۃُ عُلْمَی الزَّوْجَاتِ
دونوں طرح جائز ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔ اگر اسم تفضیل الف لام کے ساتھ ہو تو اس صورت میں اسے ماقبل کے مطابق لانا واجب ہے۔ جیسے
زَیْدُنِ الأَفْضَلُ ، أَلزَّیْدَانِ الأَفْضَلاَنِ ،أَلزَّیْدُوْنَ الأَفْضَلُوْنَ ۔ فَاطِمَۃُ الْفُضْلٰی ،أَلْفَاطِمَاتَانِ الْفُضْلَیَانِ ،أَلْفَاطِمَاتُ الْفُضْلَیَاتُ۔
اسم تفضیل کے چند ضروری قواعد:
٭۔۔۔۔۔۔ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ کثرت استعمال کی وجہ سے اسم تفضیل کے ہمزہ کو حذف کردیا جاتاہے۔ جیسے خَیْرٌ، شَرٌّ اصل میں أَخْیَرُ اور أَشَرُّتھے ۔