| نصاب النحو |
٭۔۔۔۔۔۔ اسم تفضیل پر تنوین نہیں آتی کیونکہ یہ غیر منصرف ہوتاہے۔
٭۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل صرف ثلاثی مجرد سے آتاہے۔ اس کیلئے بھی یہ شرط ہے کہ اس میں رنگ وعیب کے معنی نہ پائے جائیں ۔
٭۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل کے استعمال کے تین طریقوں میں سے کوئی دو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے ۔جیسےاَلرَّجُلُ الأَفْضَلُ مِنْ زَیْدٍ
پڑھنا جائز نہیں ۔جب مفضل علیہ معلوم ہو تو اسکو حذف کردینا جائز ہے۔ جیسے أَللہُ أَکْبَرُ دراصل
أللہُ أَکْبَرُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ
تھا۔ ترکیب:
اَلأُسْتَاذُ أَفْضَلُ مِنَ التِّلْمِیْذِ
أَلأُسْتَاذُمبتدا، أَفْضَلُ اسم تفضیل اس میں ھُوْ ضمیراس کا فاعل مِنْ جارأَلتِّلْمِیْذِ مجرور جار اپنے مجرور سے ملکر أَفْضَلُ کے متعلق ہوا، أَفْضَلُ اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر مبتدا کی خبر مبتدا اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ ہوا۔ ترکیب:
زَیْدٌ أَفْضَلُ الْقَوْمِ۔
زَیْدٌ مبتدا ،أَفْضَلُ اسم تفضیل اس میں ھُوَ ضمیر اس کا فاعل اسم تفضیل اپنے فاعل سے ملکر شبہ جملہ ہوکر مضاف ،اَلْقَوْمِ مضاف الیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا کی خبر مبتدا اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ ہوا۔