| نصاب النحو |
وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات پردلالت کرے جس میں دوسروں کے مقابلے میں معنی مصدری کی زیادتی ہو ۔ جیسے أَنْصَرُ(دوسروں کی نسبت زیادہ مدد کرنے والا)جس میں مصدری معنی کی زیادتی پائی جائے اسے مُفَضَّل اور جس کے مقابلے میں یہ زیادتی پائی جائے اسے مُفَضَّل علیہ کہتے ہیں ۔ جیسے
أَلأُسْتَاذُ أَفْضَلُ مِنَ التِّلْمِیْذِ
(استاذ شاگرد سے افضل ہے) اس میں أَلأُسْتَاذُ مفضل اورأَلتِّلْمِیْذ مفضل علیہ ہے۔ مذکر کیلئے اس کے واحد کا صیغہ أَفْعَلُ اور مونث کیلئے فُعْلی ٰکے وزن پرآتاہے۔
اس کا عمل:
اسم تفضیل فعل کی طرح فاعل پرعمل کرتاہے یعنی اسے رفع دیتاہے۔ اسکا فاعل اکثر ھو ضمیر مستتر ہوتی ہے۔
اسم تفضیل کااستعمال:
اسم تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں۔
۱۔ الف لام کے ساتھ:۔ جیسےجَاءَ زَیْدُنِ الأَفْضَلُ
(فضیلت والازید آیا)۔
۲۔مِنْ کے ساتھ:۔ جیسےزَیْدٌ أَفْضَلُ مِنْ عَمْرٍو
(زید عمرو سے زیادہ افضل ہے)۔