Brailvi Books

نصاب النحو
205 - 268
    ۴۔ فاعل کا مشتق ہونا ضروری نہیں جبکہ اسم فاعل کا مشتق ہونا ضروری ہے۔

ترکیب:
ضَرَبَ زَیْدٌ قَائِمًا غُلامُہ،

    ضَرَبَ
فعل ،زَیْدٌذوالحال ،قَائِمًا اسم فاعل ،غُلا مُ مضاف ہ، ضمیر مضاف الیہ،مضاف ،مضاف الیہ سے ملکر قَائِمًا کا فاعل ،قَائِمًا اپنے فاعل سے ملکر حال، ذوالحال اپنے حال سے ملکر فاعل ،فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ۔

اسم مفعول کی تعریف:

    وہ اسم ہے جو فعل متعدی سے مشتق ہو اور اس ذا ت پر دلالت کرے جس پر فعل واقع ہوتاہے، اور ثلاثی مجر د سے مَفْعُوْلٌ کے وزن پر آتاہے۔ جیسے مَضْرُوْبٌ (پِٹا ہوا) مَنْصُوْرٌ (مدد کیا ہوا) وغیرہ ۔

اسم مفعول کا عمل: 

    اسم مفعول بھی فعل مجہول کی طرح عمل کرتاہے اس کے عمل کیلئے بھی وہی شرائط ہیں جو اسم فاعل کیلئے ہیں۔ 

    ٭۔۔۔۔۔۔اسم مفعول نائب الفاعل کو رفع دیتاہے۔ جیسے
زَیْدٌ مَضْرُوْبٌ أَبُوْہ،
 ( زید کا باپ ماراگیا) ۔

    ٭۔۔۔۔۔۔ اگر یہ ایسے فعل سے بنا ہو جو متعدی بدو مفعول ہوتو پہلے مفعول کو رفع اور دوسرے کو نصب دیگا۔ جیسے
عَمْرٌو مُعْطیً غُلاَ مُہ، دِرْھَمًا
(عمرو کے غلام کو درھم دیاجائے گا)۔اسی طرح اگر ایسے فعل سے بنا ہو جو متعدی بسہ مفعول ہو تو پہلے مفعو ل کو رفع دوسرے اور تیسرے کو نصب دے گا۔
خَالِدٌ مُخْبَرٌ اِبْنُہ، عَمْرًوا فَاضِلاً
(خالد کے
Flag Counter