(میں نے ایسے لڑکے کو مارا جس کا والد کھڑا ہے)
٭۔۔۔۔۔۔۳۔اس کے ماقبل اسم موصول ہو اور یہ صلہ بنے ۔جیسے
جَاءَ نِی الَّذِیْ ضَارِبٌ عَمْرًوا۔
(میرے پاس وہ شخص آیا جس نے عمر کو مارا ہے)
٭۔۔۔۔۔۔۴۔اس سے قبل ذوالحال ہو اور یہ حال واقع ہو رہا ہو۔جیسے
ضَرَبَ زَیْدٌ قَائِمًا غَلاَمُہ،
(زید نے اس حال میں مارا کہ اس کا غلام کھڑا ہے)۔
٭۔۔۔۔۔۔۵۔ اس کے ماقبل حرف نفی ہو ۔جیسے
(زید نہیں مار رہا ہے)۔
٭۔۔۔۔۔۔۶۔اس کے ماقبل ہمزہ استفہام ہو،جیسے
أَ نَاصِرٌ زَیْدٌ خَالِدًا؟
(کیا زید خالد کی مدد کررہا ہے؟)
نوٹ:
مبالغہ کا جو صیغہ فاعل کیلئے ہو اس کا عمل اسم فاعل ہی کی طرح ہوگا۔ جیسے
فاعل اور اسم فاعل میں فرق:
۱۔ اسم فاعل عامل ہوتاہے۔جبکہ فاعل عامل نہیں ہوتا۔
۲۔ فاعل سے پہلے فعل کا ہونا ضروری ہے مگر اسم فاعل سے پہلے ضروری نہیں۔
۳۔ فاعل کا مرفوع ہونا ضروری ہے جبکہ اسم فاعل کا مرفوع ہونا ضروری نہیں۔