| نصاب النحو |
اسم فاعل کی تعریف:
وہ اسم ہے جو فعل سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ فعل قائم ہو۔ جیسے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا) ۔
نوٹ:
ثلاثی مجرد سے یہ فَاعِلٌ کے وزن پر آتاہے۔ اور اس کو مضارع معروف سے بنایا جاتا ہے۔ جیسے یَنْصُرُ سے نَاصِرٌ ۔
اسم فاعل کا عمل:
اسم فاعل بھی اپنے فعل معروف والا عمل کرتاہے یعنی فاعل کورفع دیتاہے۔ اور اگر فعل متعدی کا اسم فاعل ہے تو فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول بہ کو نصب دیتاہے۔
جیسے أَ دَاخِلٌ زَیْدٌ؟(کیا زید اندر ہے؟)مَاضَارِبٌ أَحَدٌ أَخَاکَ
(آپ کے بھائی کو کوئی نہیں مار رہا ) لیکن اسم فاعل کے عمل کرنے کیلئے دوشرطیں ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔۱۔ اس میں حال، یا استقبال کا معنی پایا جائے۔
٭۔۔۔۔۔۔۲۔اسم فاعل سے ماقبل چھ چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور موجود ہو۔ وہ چھ چیزیں یہ ہیں ۔