| نصاب النحو |
مثال میں أَوْ اِلاَّ کے معنی میں ہے۔
۴۔ فاء سببیہ کے بعد:
جب فاء سببیہ سے پہلے امر ،نہی ،استفہام، تمنی، ترجی، عرض ،نفی اور تحضیض میں سے کوئی آجائے تو اس وقت بھی ان مقدر کرنا واجب ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اسکا ما قبل مابعد کیلئے سبب بن رہاہو۔
بالترتیب مثالیں مذکور ہیں :
۱۔امر:۔اٰتِنِیْ فَأُکْرِمَکَ(مجھے دے تاکہ اس سبب سے میں تیری تعظیم کروں)۔
۲۔ نہی:۔لاَ تَظْلِمُوْا عَلَی النَّاسِ فَتَدْخُلُوْا فِی النَّارِ
(لوگوں پر ظلم نہ کرو کہ اس سبب سے تم دوزخ میں جاؤ)۔
۳۔ استفہام:۔أَیْنَ صَدِیْقُکَ فَأُصَافِحَ
(تمھارا دوست کہاں ہے میں مصافحہ کروں)۔
۴۔تمنی:۔یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ أَجْتَھِدُ فَأَفُوْزَ
(کاش میں محنت کرتاتاکہ کامیاب ہوجاتا)۔
۵۔ عرض:۔أَلاَ تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْرًا
(آپ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے کہ خیر کو پہنچ جاؤ)۔
۶۔ نفی:۔لَمْ یُحَصِّلْ عِلْمَ الدِّیْنِ فَیَصِیرَ عَالِمًا
(اس نے علم دین حاصل نہ کیا کہ عالم بنتا)۔
۷۔ ترجی:۔لَعَلَّ زَیْدًا یَرْحَمُنِیْ فَأُحِبَّہ،
(امید ہے کہ زید مجھ پر رحم کرے تو میں اس سے محبت کرنے لگوں)