Brailvi Books

نصاب النحو
189 - 268
پر داخل ہو اس کے بعد فعل کا ہونا اسوقت ضروری ہے جب یہ شرط کے معنوں میں ہو۔ جیسے
اِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ زِلْزَالَھَا ۔
اِذَا جب مفاجات کیلئے استعمال ہوتواس کے مابعد جملہ اسمیہ کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے
خَرَجْتُ فَاِذَا السَّبْعُ وَاقِفٌ
(میں نکلا تو اچانک درندہ کھڑا تھا) ۔

۳۔انّٰی:

    یہ ظرف مکان کیلئے استعمال ہوتا ہے بمعنی جہاں اور اس کو استفہام کیلئے بھی استعمال کیاجاتاہے۔ ظرف زماں کی مثال :
أَنّٰی تَجْلِسْ أَجْلِسْ
 (جہاں تو بیٹھے گا میں بھی وہاں بیٹھوں گا) استفہام کی مثال:
أَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ ؟
(میرے ہاں بچہ کیسے پیدا ہو سکتاہے؟)۔

۴۔متی:

    یہ ظرف ِزمان ہے بمعنی جس وقت خواہ زمانہ ماضی ہو یا مستقبل کبھی استفہام کے لئے استعمال ہوتاہے۔ خواہ بڑی شے کے بارے میں سوال کیا جا ئے یا چھوٹی شے کے متعلق اورکبھی شرط کیلئے آتاہے۔ جیسے
مَتٰی تَقْرَءُ؟
(تو کب پڑھے گا)
مَتٰی تَصُمْ أَصُمْ
 (جب تو روزہ رکھے گامیں بھی رکھوں گا) ۔

۵۔ أَیَّان:

    یہ زمانہ مستقبل کیلئے آتاہے بمعنی کب۔ اور عظیم امور کے متعلق دریافت کرنے کیلئے آتاہے۔ جیسے أَیَّانَ القِتَالُ (جہاد کب ہو گا) ۔

۶،۷ ۔مذ منذ:

    یہ دونوں کبھی تو کسی کام کی ابتدائی مدت بتانے کیلئے آتے ہیں ۔ جیسے
مَارَأَیْتُہ، مُذْ
Flag Counter