فعل اَلرَّجُلُ فاعل ،فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ ہو کر خبر مقدم، زَیْدٌ مبتدائے مؤخر، مبتدائے مؤخراپنی خبر مقدم سے ملکر جملہ اسمیہ۔
۲۔ نِعْمَ فعل اَلرَّجُلُ فاعل ،فعل اپنے فاعل سے ملکر الگ جملہ فعلیہ ۔زَیْدٌ مبتدائے محذوف(ھُوَ) کی خبر،مبتدأ خبر ملکر جملہ اسمیہ۔
تنبیہ:
کبھی کبھی مخصوص بالمدح اور مخصوص بالذم کو بوقت قرینہ حذف بھی کردیاجاتاہے۔ جیسےنِعْمَ ا لْمَاھِدُوْنَ
یہاں نَحْنُ محذوف ہے۔ اسی طرح
نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَنِعْمَ النَّصِیْرُ
میں ھُوَ محذوف ہے یعنی
نِعْمَ الْمَوْلیٰ ھُوْ وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ھُوَ۔
افعال مدح وذم کے چند ضروری قواعد:
٭۔۔۔۔۔۔مخصوص بالمدح اور مخصوص بالذم اکثر فاعل کے بعد آتے ہیں ۔اور یہ ہمیشہ مرفوع ہوتے ہیں۔ انکا واحد وتثنیہ وجمع اور تذکیر وتانیث میں فاعل کے موافق ہونا ضروری ہے۔ جیسےنِعْمَ الرَّجُلُ زَیْدٌ
اور
نِعْمَ الرَّجُلاَنِ الزَّیْدَانِ۔
٭۔۔۔۔۔۔ نَعِمَ اور بَئِسَ بر وزنِ فَعِلَ دونوں فعلِ ماضی کے صیغے ہیں فا کلمہ کوعین کلمہ (جو کہ حروفِ حلقی ہیں)کی وجہ سے کسرہ دیا گیااور تخفیفاعین کلمہ سے کسرہ حذف کردیاگیا۔
نوٹ:
نعم میں چارلغات ہیں :نِعْمَ،نَعْمَ،نَعِم ،نِعِمَ
لیکن اول سب سے زیادہ فصیح اور مشہور ہے۔