نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہٖ۔
٭۔۔۔۔۔۔حَبَّذَامیں حَبَّ فعل مدح ہے اور ذَا اسم اشارہ اسکا فاعل اسکے بعد جو اسم آئیگاوہ مخصوص بالمدح ہوگا، نیز حَبَّذَا میں مخصوص بالمدح کا فاعل کے موافق ہونا ضروری نہیں، چنانچہ حَبَّذَا الْمُجَاھِدُوْنَ کہنا درست ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔اگرحَبَّذَا سے پہلے نفی آجائے تویہ ذم کے معنی دینے لگتا ہے جیسے لاَحَبَّذَا النَمَّامُ (چغلخور براہے) ۔
٭۔۔۔۔۔۔مخصوص بالمدح یاذم کو فعل اورفاعل کے درمیان نہیں لاسکتے البتہ فعل پرمقدم کر سکتے ہیں جیسے، زَیْدٌ نِعْمَ الرَّجُلُ ،نیز اس صورت میں ایک ہی ترکیب ہوگی۔کہ مخصوص بالمدح (زَیْدٌ) مبتدا اور مابعد جملہ خبر بنے گا۔
٭۔۔۔۔۔۔حَبَّذَا کے علاوہ بقیہ افعال سے صرف ماضی کے مخصوص صیغے آتے ہیں ، جبکہ حَبَّذَا سے کوئی صیغہ نہیں آتا۔
٭۔۔۔۔۔۔ان افعال کے فاعل کی تمییز ہمیشہ ان سے متأخر ہوتی ہے۔ لہذا