(زید کیا ہی اچھا آدمی ہے)
،بِئْسَ الرَّجُلُ خَالِدٌ
(خالد کیا ہی برا آدمی ہے) ۔ان مثالوں میں اَلرَّجُلُ فاعل جبکہ زَیْدٌ مخصوص بالمدح اور خَالِدٌ مخصوص بالذم ہے۔
حَبَّذَا کے علاوہ ان افعال کے فاعل کی تین صورتیں ہے ۔
۱۔ معرف باللام ہو ۔جیسے
۲۔یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو جیسے
نِعْمَ غُلامُ الرَّجُلِ زَیْدٌ
۳۔ یا اسکا فاعل ضمیر مستتر ہو جسکی تمییز نکرہ منصوب آرہی ہو۔ جیسے
(یہاں نِعْمَ کا فاعل ضمیر مستتر ھُوَ ہے اور رَجُلاً اسکی تمییزہے) ۔یہ تمییز ابہام کو دور کررہی ہے۔
تنبیہ:
کبھی ضمیر مستتر سے ابہام دور کرنے کیلئے تمییز نکرہ منصوبہ کی بجائے کلمہ مَا(بمعنی شی)کے ساتھ لائی جاتی ہے جیسے
اِنْ تُبْدُوْا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا ھِیَ
(اگر تم صدقات ظاہر کرتے تویہ بہت ہی اچھا ہوتا۔