Brailvi Books

نصاب النحو
150 - 268
    ٭۔۔۔۔۔۔جملہ اسمیہ کا عطف جملہ اسمیہ پر اور فعلیہ کا فعلیہ پر مناسب ہوتا ہے لیکن برعکس بھی جائز ہے۔ جیسے
جَاءَ زَیْدٌ وَ عَلِیٌّ ذَھَبَ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔اسم ظاہر کا عطف اسم ظاہر یااسم ضمیر پر اور اسم ضمیر کا عطف اسم ضمیر یا اسم ظاہر پر جائزہے۔ جیسے
جَاءَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو، جَاءَ زَیْدٌ وَأَنْتَ ، مَاجَاءَ نِیْ اِلاَّ أَنْتَ وَعَلِیٌّ اور أَنَا وَأَنْتَ صَدِیْقَانِ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔بسا اوقات جملے کے شروع میں واقع ہونے والی واؤ عطف کی غرض سے نہیں آتی بلکہ استیناف کیلئے آتی ہے ۔ جیسے
وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا
اس وقت اسے واؤ مستانفہ ااورجملے کو جملہ مستانفہ کہتے ہیں ۔ 

    ٭۔۔۔۔۔۔ضمیر مرفوع متصل بارز یا مستتر پر عطف کرنا ہوتو پہلے ضمیر مرفوع منفصل کے ساتھ اسکی تاکید لا نا ضروری ہے۔ جیسے
نَجَوْتُمْ اَنْتُمْ وَ مَن مَّعَکُمْ
 (تم نے اور تمھارے ساتھیوں نے نجات پائی)
اسْکُنْ اَنۡتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ  ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔ضمیر مجرور پر عطف کرناہو توعموما حرف جر کا اعادہ کیا جاتاہے۔ جیسے
مَرَرْتُ بِہٖ وَبِزَیْدٍ
اور بعض اوقات اعادہ نہیں کیا جاتا ،جیسے قرآن پاک میں
وَکُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
آیا ہے۔ 

فائدہ :

    بعض عبارتوں میں عطف کی یہ نشانیاں ہوتی ہیں ۔ عط عط یا عف عف ۔

عطف بیان کی تعریف: 

    وہ تابع ہے جو صفت تو نہ ہو لیکن صفت کی طرح اپنے متبوع کو واضح کرے یہ اپنے
Flag Counter