تابع کو عطف بیان اور متبوع کومبیَّن کہتے ہیں ۔
عطف بیان کے چند ضروری قواعد:
٭۔۔۔۔۔۔اگر کنیت اور علم ایک ساتھ آجائیں توان میں سے مشہور کو عطف بیان بنائیں جیسے مذکورہ بالا مثالوں میں پہلی میں عُمَرُ اور دوسری میں أَبُوْھُرَیْرَۃَ عطف بیان ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔اگر متبوع معرفہ ہو تو عطف بیان اسکی وضاحت کرتاہے جیسے مذکورہ مثالیں اورنکرہ ہو تو اسکی تخصیص کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے
وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیدٍ۔
اس مثال میں صدید عطف بیان نے ماء متبوع کی تخصیص کی۔
٭۔۔۔۔۔۔عطف بیان تخصیص اور ازالہ وہم کیلئے بھی آتاہے جیسے
أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ47﴾رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ۔
ضاحت:
طَعَامُ مَسٰکِیْنَ نے کفارہ کی اقسام میں طعام کو خاص کردیا ہے اور لفظ
رَبِّ مُوْسیٰ وَھَارُوْنَ
نے فرعون پر ایمان لانے اور اسکے دعوائے ربوبیت کا ازالہ کیا ہے۔