| نصاب النحو |
۱۔رفع ۲۔ نصب ۔ ۳۔جر ۴۔ اِفراد ۵۔تثنیہ ۶۔ جمع ۷۔تعریف ۸۔تنکیر ۹۔ تذکیر ۱۰۔ تانیث
اسکی مثالیں مرکب توصیفی کے بیان میں گزر چکی ہیں۔ مذکورہ بالادس چیزوں میں سے بیک وقت چار چیزوں میں موافقت ضروری ہے۔جیسےقصرٌ عظیمٌ۔ عظیم
چار چیزوں یعنی مرفوع،مفرد،مذکر اورنکرہ ہونے میں موصوف کے مطابق ہے۔ اور اگر صفت سببی ہوتو اسکا اپنے موصوف سے پانچ چیزوں میں موافق ہونا ضروری ہے۔ لیکن بیک وقت دو چیزیں پائی جائیں گی۔وہ پانچ چیزیں یہ ہیں۔ ۱۔ تعریف ۲۔ تنکیر ۳۔ رفع ۴۔ نصب ۵۔ جر جیسے تعریف ورفع میں
جَاءَ زَیْدُنِ الْعَالِمُ أَبُوْہ،
اورتنکیر ونصب میں
رَأَیْتُ رَجُلاً عَالِمًا أَبُوْہ، (علی ھذا القیاس )۔
صفت کے فوائد:
٭۔۔۔۔۔۔موصوف نکرہ ہو تو صفت لگانے سے نکرہ مخصوصہ بن جاتاہے جیسےرَجُلٌ عَالِمٌ مَوْجُوْدٌ
(عالم آدمی موجود ہے) ۔
٭۔۔۔۔۔۔اور اگر معرفہ ہوتوصفت موصوف کی وضاحت کیلئے آتی ہے۔ جیسےجَاءَ الأُسْتَاذُ الْفَقِیْہُ
(فقیہ استاد آیا)
٭۔۔۔۔۔۔موصوف، صفت لگانے سے پہلے بھی معروف ومشہور ہو توصفت یا تومدح کیلئے آتی ہے۔جیسےبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یا مذمت کیلئے جیسے
أَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔