تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ۔
صفت کے چند ضروری قواعد:
٭۔۔۔۔۔۔صفت سببی تذکیروتانیث میں اپنے موصوف کے مطابق ہونے کی بجائے اپنے مابعد کے مطابق ہوتی ہے جیسے
جَاءَ تْ فَاطِمَۃُ الْعَاقِلُ زَوْجُہَا۔
٭۔۔۔۔۔۔صفت سببی میں موصوف اگر چہ تثنیہ یا جمع ہو صفت ہمیشہ مفرد ہی آتی ہے جیسے
ھٰؤُلاَءِ بَنَاتٌ عَاقِلٌ أَھْلُھَا ۔
٭۔۔۔۔۔۔صفت واقع ہونے والے صیغے عموما اسم فاعل ،اسم مفعول،صفت مشبہ اور اسم تفضیل کے ہوتے ہیں۔جیسے
رَجُلٌ عَالِمٌ،وَقْتٌ مَّعْلُوْمٌ،طِفْلٌ حَسَنٌ،زَیْدُنِ الأَفْضَلُ ۔
٭۔۔۔۔۔۔یاد رہے کہ صفت کے لیے عموما اسم مشتق ہی استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی اسم جامد بھی صفت واقع ہوتا ہے اسوقت اسے مشتق کی تاویل میں کیا جاتاہے جیسے ذُوْصاحب کے معنٰی میں ہو کر مشتق بن جاتا ہے۔جیسے
(مال والا آدمی آیا)۔
٭۔۔۔۔۔۔اسم نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہو تو یہ نکرہ کی صفت واقع ہوتے ہیں جیسے
جَاءَ رَجُلٌ أَبُوْہُ مُمَرِّضٌ
جَاءَ رَجُلٌ یَقْرَءُ الْقُرْآنَ۔
٭۔۔۔۔۔۔جب جملہ صفت واقع ہو رہا ہو تو اس میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو واحد و تثنیہ