اور مضارع ہو تو لاَ یا لَنْ سے شروع ہوگا۔ جیسے
وَاللہِ لاَ أُکَلِّمُہ، أَبَدًا ، وَاللہِ لَن یُّکَذِّبَ زَیْدٌ۔
جواب قسم کا حذف:
جب قرینہ پایا جائے تو جواب قسم کو وجوبی طور پر حذف کر دیاجاتاہے۔ اسکی درج ذیل صورتیں ہیں۔
۱۔جب قسم سے پہلے ایسا جملہ آجائے جو جواب قسم بن سکتا ہو جیسے
۲۔ جب قسم ایسے جملے کے درمیان میں آجائے جو جواب قسم بن سکتا ہو جیسے
وَاللہِ اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ
واؤ حرف جر برائے قسم اَللہِ اسم جلالت مجرور جار مجرور سے ملکر أُقْسِمُ فعل مقدر کا ظرف مستقر ،أُقْسِمُ فعل اس میں أَنَا ضمیرفاعل ،أُقْسِمُ فعل اپنے فاعل اورظرف مستقر سے ملکر جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا ۔اِنَّ حرف مشبہ بالفعل زَیْدً ااس کا اسم قَائِمٌ اس کی خبر اِنَّ حرف مشبہ بالفعل اپنے اسم اور خبر سے ملکر جملہ اسمیہ ہوکر جواب قسم ۔
ترکیب:
وَاللہِ لَأَدْخُلَنَّ الْمَسْجِدَ
واؤحرف جار برائے قسم اَللہِ اسم جلالت مجرور جاراپنے مجرور سے مل کر أُقْسِمُ فعل مقدر کا ظرف مستقر أُقْسِمُ فعل ،اس میں أَنَا ضمیر فاعل أُقْسِمُ فعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر