(زید اور بکر نے آپس میں لڑائی کی ) ۔
(۳)موافقت :
مجرد کے ہم معنی ہونا۔جیسے: سَفَرْتُ۔کے معنی ہیں(سفر کرنا )اور سَافَرْتُ کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
جیسے:
قَاسٰی زَیْدٌ ہٰذِہٖ الْمُصِیْبَۃَ۔
(زید نے اس مصیبت کو برداشت کیا )اس کا مجرد فعل
ہے جس کے معنی سخت ہونے کے ہیں ۔
(۶) باب افتعال
(۱)۔۔۔۔۔۔اتخاذ :
جیسے: اِجْتَحَرَ۔ ( اس نے سوراخ بنایا ) اِجْتَنَبَ۔ (اس نے کونہ پکڑا) اِغْتَذٰی الشَّاۃَ۔ (اس نے بکری کو غذا بنایا) اِعْتَضَدَہٗ۔ (اس نے اسے بازو میں لیا) ۔
پہلی مثال میں ماخذ جُحْرٌ(سوراخ) دوسری مثال میں جَنْبٌ(گوشہ، طرف)