Brailvi Books

نصاب الصرف
336 - 342
کا مجرد فعل استعمال ہی نہیں ہوتا ۔

(۵) باب مفاعلہ 

(۱)۔۔۔۔۔۔تصییر :

    فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ بنانا ۔جیسے:
عَافَاکَ اللَّہُ۔
 (اللہ تعالی تجھے عافیت عطا فرمائے ) ماخذ مُعَافَاۃٌ(محفوظ رکھنا، صحت دینا)ہے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔مشارکت : 

    جیسے:
قَاتَلَ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔
(زید اور بکر نے آپس میں لڑائی کی ) ۔

(۳)موافقت : 

    مجرد کے ہم معنی ہونا۔جیسے: سَفَرْتُ۔کے معنی ہیں(سفر کرنا )اور سَافَرْتُ کے بھی یہی معنی ہیں۔

(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء :

    جیسے:
قَاسٰی زَیْدٌ ہٰذِہٖ الْمُصِیْبَۃَ۔
(زید نے اس مصیبت کو برداشت کیا )اس کا مجرد فعل
قَسَا یَقْسُوْ قَسْواً
ہے جس کے معنی سخت ہونے کے ہیں ۔ 



(۶) باب افتعال 

(۱)۔۔۔۔۔۔اتخاذ :

    جیسے: اِجْتَحَرَ۔ ( اس نے سوراخ بنایا ) اِجْتَنَبَ۔ (اس نے کونہ پکڑا) اِغْتَذٰی الشَّاۃَ۔ (اس نے بکری کو غذا بنایا) اِعْتَضَدَہٗ۔ (اس نے اسے بازو میں لیا) ۔

    پہلی مثال میں ماخذ جُحْرٌ(سوراخ) دوسری مثال میں جَنْبٌ(گوشہ، طرف)
Flag Counter