(۴) باب تفعل
(۱)۔۔۔۔۔۔تحول :
فاعل کا ماخذ بن جانا ۔جیسے: تَنَصَّرَ۔( معاذ اللہ ، وہ نصرانی ہوگیا ) ماخذنصرانی ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اتخاذ :
فاعل کا ماخذ بنا نا، یاماخذاختیارکرلینا، یامفعول کو ماخذبنانا، یامفعول کوماخذمیں لینا۔جیسے: تَبَوَّبَ ( اس نے دروازہ بنایا )تَجَنَّبَ(اس نے کونہ پکڑلیا) تَوَسَّدَ الْحَجَرَ(اس نے پتھر کو تکیہ بنایا) تَئَبَّطَ الصَّبِیَّ (اس نے بچہ کو بغل میں لیا)
پہلی مثال میں ماخذ ''بَابٌ'' (دروازہ) دوسری میں ''جَنْبٌ''(کونہ، کنارہ) تیسری میں ''وِسَادَۃٌ''(تکیہ)اور چوتھی میں ''اِبْطٌ'' (بغل) ہے ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
اس کے معنی بیان ہوچکے۔ جیسے: عَلَّمْتُہ، فَتَعَلَّمَ ( میں نے اس کو سکھایا تووہ سیکھ گیا)
(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت :
باب تَفَعُّلٌ کا مجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے: قَبِلَ کے معنی ہیں ( اس نے قبول کیا ) اور تَقَبَّل َکے بھی یہی معنی ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
اس کے معنی بھی بیان کردیے گئے ۔جیسے: تَشَمَّسَ۔ (وہ دھوپ میں بیٹھا )اس