| نصاب الصرف |
(ب)موافقت تَفْعِیْلٌ :
باب اِفْعَالٌ کاتَفْعِیْلٌ کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:کَفَّرَہ،۔ کے معنی ہیں(اس نے اسے کافر ٹھہرایا) اوراَکْفَرَہ، کے بھی یہی معنی ہیں۔
(ج) موافقت تَفَعُّلٌ :
اِفْعَال ٌکا تَفَعُّلٌ کے ہم معنی ہونا جیسے:تَغَلَّفَہ،۔ کے معنی ہیں (اس نے اسے غلاف میں ڈالا )اوراَغْلَفَہ، کے بھی یہی معنی ہیں ۔
(د)موافقت اِسْتِفْعَالٌ :
باب اِفْعَالٌ کا اِسْتِفْعَالٌ کے ہم معنی ہونا ۔جیسے:اِسْتَعْظَمْتُ زَیْداً۔
کے معنی ہیں (میں نے زید کو عظیم سمجھا)اور
اَعْظَمْتُ زَیْداً
کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۲) باب تفعیل
(۱)۔۔۔۔۔۔تعدیہ:
اس کے معنی بیان ہو چکے۔ جیسے:فَرِحَ زَیْدٌ۔
کے معنی ہیں (زید خوش ہوا ) (لازم)اور فَرَّحْتُہ،کے معنی ہیں (میں نے اس کو خوش کیا ) (متعدی)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تصییر:
اس کے معنی بھی گذرچکے۔ جیسے:وَتَّرْتُ الْقَوْسَ۔ (میں نے قوس کو تَانْت والی بنایا)(ماخذ اَلْوَتَرَۃُ((تَانْت یعنی کمان کاتار))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔الباس ماخذ:
اس کے معنی بیان ہوچکے۔ جیسے:جَلَّلْتُ الْفَرَسَ۔ (میں نے گھوڑے کو جھول پہنائی )ماخذ اَلْجَلُّ(جُھوْل یعنی جانور پر ڈالاجانے والاکپڑا)ہے۔