Brailvi Books

نصاب الصرف
331 - 342
اَبْصَرْتُہ، (میں نے اسے دیکھا)(متعدی)۔ 

(۲)۔۔۔۔۔۔تصییر:

     فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ کر دینا۔ جیسے:اَشْرَکَ النَّعْلَ۔ (اس نے جوتے کوتسمہ والا کردیا ،یعنی: جوتے میں تسمہ لگادیا) (ماخذلفظ شِرَاکٌ((جوتے کا تسمہ))ہے)۔

(۳)۔۔۔۔۔۔مبالغہ:

    فاعل میں ماخذکی کیفیت ومقدارمیں زیادتی وکثرت ہوجانا۔ جیسے:
اَسْفَرَ الصُّبْحُ۔
 (صبح خوب کھل گئی )اَثْمَرَالنَّخْلُ(درخت بہت پھلدارہوگیا)ان میں ماخذلفظ سَفْرٌ(کھولنا)اور ثَمَرٌ(پھل)ہیں۔

(۴)۔۔۔۔۔۔لزوم یا الزام : (عکسِ تعدیہ )

    فعل متعدی کو لازم بنانا۔جیسے:حَمِدَ اللَّہَ۔ (اس نے اللہ عزوجل کی حمد کی )سے اَحْمَدَ (وہ حمدوالا ہوا)۔

(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء :

    باب اِفْعَالٌ سے ابتداء ً کسی فعل کا اس معنی میں استعمال ہونا جو معنئ مجرد سے بالکل جدا ہویا اس کا مجرد فعل آتاہی نہ ہو۔ جیسے:اَشْفَقَ۔(ڈرنا)اس کامجردشَفَقَ ہے بمعنی (مہربا ن ہونا)اَرْقَلَ(دوڑنا)اس کا مجردفعل نہیں آتا۔ 

(۶)۔۔۔۔۔۔موافقت:

    یعنی باب اِفْعَالٌ کا کسی اور باب کے ہم معنی ہونا۔جیسے: 

    ( ا لف) موافقتِ مجرد :

    یعنی باب اِفْعَالٌ کامجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:دَجٰی اللَّیْلُ۔ کے معنی ہیں (رات تاریک ہوگئی) اور اَدْجٰی کے بھی یہی معنی ہیں ۔
Flag Counter