(صبح خوب کھل گئی )اَثْمَرَالنَّخْلُ(درخت بہت پھلدارہوگیا)ان میں ماخذلفظ سَفْرٌ(کھولنا)اور ثَمَرٌ(پھل)ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔لزوم یا الزام : (عکسِ تعدیہ )
فعل متعدی کو لازم بنانا۔جیسے:حَمِدَ اللَّہَ۔ (اس نے اللہ عزوجل کی حمد کی )سے اَحْمَدَ (وہ حمدوالا ہوا)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
باب اِفْعَالٌ سے ابتداء ً کسی فعل کا اس معنی میں استعمال ہونا جو معنئ مجرد سے بالکل جدا ہویا اس کا مجرد فعل آتاہی نہ ہو۔ جیسے:اَشْفَقَ۔(ڈرنا)اس کامجردشَفَقَ ہے بمعنی (مہربا ن ہونا)اَرْقَلَ(دوڑنا)اس کا مجردفعل نہیں آتا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔موافقت:
یعنی باب اِفْعَالٌ کا کسی اور باب کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
( ا لف) موافقتِ مجرد :
یعنی باب اِفْعَالٌ کامجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:دَجٰی اللَّیْلُ۔ کے معنی ہیں (رات تاریک ہوگئی) اور اَدْجٰی کے بھی یہی معنی ہیں ۔