(اونٹنی کو رحم میں تکلیف ہوئی)(ماخذلفظ رَحِمٌ یا رِحْمٌ((بچہ دانی))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔لزوم:
فعل کا لازم ہونا ( یہ اس باب کا خاصہ لازمہ ہے یعنی: یہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے) جیسے: کَرُمَ (بزرگ ہوا وہ)(ماخذلفظ کَرَامَۃٌ((بزرگ ہونا))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔تحول:
فاعل کا ماخذکی طرف پھر جانا ۔جیسے:
۔(ہوا جَنوب کی طرف پھر گئی یعنی:جَنوب کی طرف سے چلنے والی ہوگئی )(ماخذلفظ جَنُوْبٌ((مخصوص سمت)) ہے)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔بلوغ:
فاعل کا ماخذ تک پہنچنا ۔جیسے:
۔ (مرد سختی کرنے تک آ پہنچا ) (ماخذ لفظ صَلَابَۃٌ((سختی))ہے)۔
ثلاثی مزید فیہ (۱) باب افعال
(۱)۔۔۔۔۔۔تعدیہ:
فعل لازم کو متعدی کردینا۔جیسے:
(زیددیکھنے والاہوا)(لازم)سے