Brailvi Books

نصاب الصرف
322 - 342
صیغہ نمبر(۳۷):مِتْنَا

     صیغہ جمع متکلم فعل ما ضی مثبت معروف ہے۔ جیسے:خِفْنَا، یہاں اشکال یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کا مضارع مضموم العین استعمال ہواہے ۔جیسے: یَمُوْتُ اور یَمُوْتُوْنَ، لہذا یہ باب
نَصَرَ یَنْصُرُ
سے مُتْنَا آنا چاہیے تھا۔

    اس کا جواب یہ ہے کہ بقول مفسرین یہ باب
نَصَرَ یَنْصُرُ
سے بھی آتاہے اور
سَمِعَ یَسْمَعُ
سے بھی۔ جیسے :
مَاتَ یَمُوْتُ
اور
مَاتَ یَمَاتُ (قَالَ یَقُوْل ُاورخَافَ یَخَافُ
کے وزن پر) قرآن مجید میں اس کی ماضی
سَمِعَ یَسْمَعُ
سے اور مضارع
نَصَرَ یَنْصُرُ
سے مستعمل ہے۔

صیغہ نمبر(۳۸):
فَمْبَجَسَتْ (فَانْبَجَسَتْ)
     صیغہ واحد مونث غائب فعل ماضی معروف از باب اِنْفِعَالٌ ہے۔ جیسے : اِنْبَجَسَتْ ) (بروزن اِنْفَطَرَتْ) فاء کی وجہ سے ہمزہ درمیان میں آگیا اس لئے پڑھنے سے ساقط ہوگیا ،اور نون ساکن اپنے بعد والے باء کی وجہ سے میم سے بدل گیا، اس لیے صیغے میں اشکال پیدا ہوگیا۔

صیغہ نمبر(۳۹): اَلدَّاعِ 

    اسم فاعل دَاعِیْ ہے ۔ قاعدہ یہ ہے کہ اسم معرف باللام کے آخر سے بعض اوقات یاء گرجاتی ہے، لہذا یہاں بھی گرگئی اور اَلدَّاعِ ہوگیا۔

صیغہ نمبر(۴۰): اَلْجَوَارِ

    اَلْجَوَارِیْ تھا مندرجہ بالا قاعدہ کے تحت آخر سے یاء گرگئی۔
Flag Counter