بروزن فَعَلْتُمْ صیغہ جمع مذکر حاضر ، فعل ماضی مثبت معروف از باب فتح یفتح مہموز العین وناقص یائی ہے۔ شروع میں فاء برائے تعقیب اور قد تحقیق کے لیے آیا ہے، جب آخر میں (ھا) ضمیر منصوب لائی گئی تو تُمْ پر واو کا ضافہ کردیا؛ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ کُمْ ، ھُمْ ، اور تُمْ، کے بعد جب ضمیر لانا ہوتومیم کے بعد واو کا اضافہ کرتے ہیں اور میم کو ضمہ دیا جاتاہے ۔جیسے:
قُلْتُمُوْھُمْ، اَکَلْتُمُوْھُمْ، اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ، طَلَّقْتُمُوْھُنَّ،
بلکہ واحد مونث حاضر کے صیغے میں ضمیر کا اضافہ کرتے وقت تائے مکسورہ کے بعد یاء ساکن کا اضافہ کرتے ہیں۔ جیسے: ''صحیح بخاری'' میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے قول میں آیا ہے:
((لَوْ قَرَأْتِیْہِ لَوَجَدْتِیْہِ))۔
صیغہ نمبر(۳۵): اَنُلْزِمُکُمُوْھَا
صیغہ جمع متکلم فعل مضارع صحیح از باب اِفْعَالٌ بروزن نُکْرِمُ ہے۔ شروع میں ہمزہ استفہام ہے اور آخر میں ضمیر منصوب کُمْ ہے ،چونکہ اس کے بعد پھر ھَا ضمیر آرہی ہے اس لیے درمیان میں واو کا اضافہ کیا اور میم کو ضمہ دیا۔
صیغہ نمبر(۳۶): اَنْ سَیَکُوْنُ
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع بروزن یَقُوْلُ ہے ۔یہاں اشکال یا مغالطہ یہ ہے کہ اَنْ کے باوجود مضارع منصوب نہیں،لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اَنْ ناصبہ نہیں ہے بلکہ اَنْ مخففہ ہے، لفظ عَلِمَ اور ظَنَّ (یا ان کے مشتقات کے )بعد یہ اَنْ آتاہے اور نصب نہیں دیتا۔