صیغہ نمبر(۴۱): اَلتَّنَادِ
اَلتَّنَادِیْ باب تَفَاعُلٌ کا مصدر اَلتَّنَادُیُ تھا۔ دال کے ضمہ کو کسرہ سے بدلا، اب یاء ساکن ہو کر مندرجہ بالا قاعدے کے تحت گرگئی تواَلتَّنَادِ ہوگیا۔
صیغہ نمبر(۴۲): دَسّٰھَا
دَسّٰی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی معروف صحیح از باب تَفْعِیْلٌ مضاعف ثلاثی ہے ۔اصل میں دَسَّسَ تھا آخری حرف کوحرف علت یاء سے بدلا دَسَّیَ ہوگیا،پھر یاء کو الف سے بدلا دَسّٰی ہوگیا، اکثر اہل عرب اسی طرح کرتے ہیں۔
صیغہ نمبر(۴۳): فَظَلْتُمْ
جمع مذکر حاضر فعل ماضی معروف مضاعف ثلاثی ازباب سَمِعَ یَسْمَعُ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب دو حروف ایک جنس کے اکٹھے ہوں تو بعض اوقات ایک کو حذف کردیتے ہیں اس لیے لام کلمہ کو حذف کیا یعنی ظَلِلْتُمْ سے ظَلْتُمْ ہوگیا۔ بعض اوقات پہلے لام کی حرکت ظاء کو دے کرظِلْتُمْ بھی پڑھتے ہیں۔
صیغہ نمبر(۴۴): قَرْنَ
بعض مفسرین کے نزدیک یہ اِقْرَرْنَ تھا۔ مندرجہ بالا قاعدہ کے مطابق پہلی راء کی حرکت کاف کو دیکر راء کو حذف کردیا، اب ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی اسے حذف کردیا قَرْنَ ہوگیا۔
''تفسیر بیضاوی'' میں اس کی ایک توجیہ یہ منقول ہے کہ یہ خِفْنَ کے وزن ،